سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر کسی کمپنی کے پاس محفوظ اور تازہ ترین بیک اپ موجود ہے، تو وہ رینسم ویئر کے حملے سے آسانی سے نمٹ سکتی ہے۔ لیکن اب سائبر مجرموں نے اپنی حکمت عملی کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ڈبل ایکسٹورشن رینسم ویئر کی آمد کے بعد، محض اپنی فائلوں کو دوبارہ بحال کر لینا نجات کا ضامن نہیں رہا۔ ہیکرز اب صرف ڈیٹا کو اینکرپٹ یا لاک نہیں کرتے، بلکہ اسے اپنے پاس چوری بھی کر لیتے ہیں اور رقم نہ دینے کی صورت میں حساس معلومات کو عام کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔
رینسم ویئر کا بنیادی مقصد ہمیشہ سے ہی کمپنیوں کو بلیک میل کرنا رہا ہے، مگر ماضی میں یہ کھیل صرف فائلوں تک رسائی بند کرنے تک محدود تھا۔ ادارے اپنے آف لائن بیک اپ کے ذریعے سسٹم دوبارہ فعال کر لیتے تھے اور ہیکرز کے ہاتھ کچھ نہیں آتا تھا۔ اس کا توڑ نکالنے کے لیے سائبر ڈکیٹیکٹس نے ڈبل ایکسٹورشن یعنی دوہرے زبردستی تاوان کی تکنیک اختیار کی۔
اس نئے طریقے میں ہیکرز نیٹ ورک میں داخل ہو کر پہلے مہینوں تک خاموشی سے اہم معلومات چراتے ہیں اور اس کے بعد فائلوں کو لاک کرتے ہیں۔ اگر کوئی کمپنی بیک اپ کا استعمال کر کے تاوان دینے سے انکار کر دے، تو ہیکرز ان کا حساس ڈیٹا، مالیاتی دستاویزات اور صارفین کی معلومات ڈارک ویب پر شائع کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔
صرف بیک اپ بحال کرنا اب کسی ادارے کو بدنامی اور ڈیٹا کے افشا سے بچانے کے لیے کافی نہیں رہا۔
جب ڈیٹا چوری ہو جاتا ہے تو کمپنیوں کو صرف ہیکرز کا خوف نہیں ہوتا بلکہ عالمی قوانین کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین جیسے جی ڈی پی آر (GDPR) یا دیگر ملکی قوانین کے تحت صارفین کا ڈیٹا ضائع یا افشا ہونے پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال میں اب اداروں کو صرف بیک اپ پر انحصار کرنے کی بجائے 'زیرو ٹرسٹ' (Zero Trust) سیکیورٹی ماڈل اپنا نا ہوگا۔ ڈیٹا کو ذخیرہ کرتے وقت اور نقل وحرکت کے دوران اینکرپٹ کرنا، نیٹ ورک تک رسائی کو محدود بنانا اور ملازمین کو فشنگ میلز سے آگاہ رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ڈبل ایکسٹورشن رینسم ویئر سے بچنے کے لیے خطرے کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روکنا اب واحد حل ہے۔
کیا آپ کے خیال میں کمپنیاں اپنے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے کافی اقدامات کر رہی ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔









