کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اسمارٹ فون کی اسکرین پر ظاہر ہونے والا ایک چھوٹا سا سرخ نشان آپ کو کس قدر بے چین کر سکتا ہے؟ ایپس پر موجود یہ لال نقطہ جسے ہم تکنیکی زبان میں نوٹیفکیشن بیجز کہتے ہیں، دراصل انسان کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑے رکھنے کا انتہائی موثر ہتھیار ہے۔ نوٹیفکیشن بیجز اور ریڈ ڈاٹ کی نفسیات کے پیچھے انسانی دماغ کا ایک پیچیدہ میکانزم کام کر رہا ہوتا ہے۔ جب بھی ہم اس لال نشان کو دیکھتے ہیں، ہمارا ذہن ایک نامعلوم تجسس اور بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس کا واحد حل اس ایپ کو کھول کر اس نوٹیفکیشن کو ختم کرنا ہوتا ہے۔
انسان فطری طور پر ادھورے کاموں اور نامعلوم معلومات سے بے چین ہو جاتا ہے۔ نفسیات میں اسے زیگارنک اثر (Zeigarnik Effect) کہا جاتا ہے۔ جب کسی ایپ پر ریڈ ڈاٹ نظر آتا ہے تو ہمارا دماغ اسے ایک غیر مکمل ٹاسک کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب تک ہم اس پر کلک کر کے اس بیج کو غائب نہ کر دیں، دماغ کو سکون نہیں ملتا۔
سرخ رنگ خطرے اور اضطراری ردعمل کی علامت ہے، اسی لیے یہ نشان ہماری بصری توجہ کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
تکنیکی کمپنیوں کے ڈیولپرز اور ہائٹیک ڈیزائنرز طرزِ عمل کی نفسیات (Behavioral Psychology) کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ نوٹیفکیشن کا ملنا یا نہ ملنا ایک متغیر انعام (Variable Reward) کی طرح کام کرتا ہے۔ جب آپ ریڈ ڈاٹ کو دیکھ کر ایپ کھولتے ہیں، تو آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اندر کوئی اہم پیغام ہے یا محض ایک عام الرٹ۔ یہی نامعلوم عنصر دماغ میں ڈوپامائن کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو انسان کو ایک مسلسل لوپ میں پھنسا دیتا ہے۔
نوٹیفکیشن بیجز اور ریڈ ڈاٹ کی نفسیات کو سمجھنے کے بعد، اب صارفین میں اس بات کا احساس بیدار ہو رہا ہے کہ یہ ڈیزائن ان کی توجہ اور وقت کو چوری کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب متعدد ٹیک ماہرین اور عام صارفین اپنے فونز میں بیجز کو مکمل طور پر بند کر رہے ہیں یا اسکرین کو گری اسکیل (سیاہ و سفید) موڈ پر منتقل کر رہے ہیں تاکہ لال رنگ کا اثر ختم ہو سکے۔
کیا آپ بھی ایپس پر سرخ نشان دیکھتے ہی اسے فوراً ختم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔









